منگلورو :20/ستمبر (ایس او نیوز) منگلورو یونیورسٹی نے 100سال کی تاریخ رکھنے والی یونیورسٹیوں کے مساوی ترقی پائی ہے۔ لیکن فرقہ پرست قوتیں ایسی یونیورسٹی کا نام خراب کررہے ہیں، اس کو برداشت نہیں کیا جائے گا یونیورسٹیوں میں فرقہ اور زبان کے نام پر ناخوش گوار ماحول پیدا کیا جارہا ہے جس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس بات کا انتباہ ریاستی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم بسوراج رائے ریڈی نے دیا۔
موصوف منگلورو یونیورسٹی کے منگل گنگوتری ہال میں منعقدہ 37ویں یوم تاسیس کا افتتاح کرنےاور بین الاقوامی ہال کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔ وزیر موصوف نے اپنے خطاب میں کہاکہ منگلورو یونیورسٹی بہترین معیاری اور نتائج سے بھرپور تعلیم دینے میں کامیاب ہے، لکچررحضرات ، طلبا اور یہاں کے عوام کی بے لوث خدمات و تعاون کے نتیجے میں یونیورسٹی کو نیاک کی طرف سے ’’اے ‘‘گریڈ حاصل کرنا ممکن ہواہے۔ منگلورو یونیورسٹی کے تحقیقی مراکز عالمی سطح کے ہیں ۔ انہوں نے سب کو چوکس رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی حال میں تعلیمی میدان میں اقدار کی پامالی نہ ہونے پائے۔ انہوں نےتعلیم کو معیاری بنانے کے لئے ہر طرح کی سہولیات اور تعاون فراہم کئے جانے کا تیقن دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے لئے 25ہزار کروڑ روپئے منظور کئے ہیں، ملک میں اعلیٰ تعلیم پانے والوں کی شرح بہت کم ہے۔ جنوبی کوریا میں 94،امریکہ میں 80، چین میں 60فی صد طلبا پی یوسی کے بعد تعلیم جاری رکھتے ہیں تو بھارت میں صرف 22فی صدطلبا پی یوسی کے بعد اپنی تعلیم جاری رکھتےہیں ،انہوں نے اس شرح میں اضافہ کے لئے ہم سب کو متحدہ کوشش کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ریاست کے 412 سرکاری کالج اور23یونیورسٹیوں میں تعلیمی ترقی کے لئے کوشش کئے جانے کا تیقن دیا۔
اس موقع پر لکچرر حضرات کے لئے تعمیر کئے جانے والے کامپلکس کی دکشن کنڑا ضلع نگراں کار وزیر بی ، رماناتھ رائی نے سنگ بنیاد رکھا۔ وزیر برائے اجناس یوٹی قادر نے بھی خطاب کیا۔ منگلورو یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر کے بھئیرپا نے پروگرام کی صدارت کی۔ پروگرام میں فلمی ایکٹر دیوداس کاپی کاڈ اور اولپین سہنا کماری کی تہنیت کی گئی ۔ رجسٹرار پروفیسر کے ایم لوکیش نے استقبال کیا تو امتحانات کے رجسٹرار اے ایم خان نے شکریہ اداکیا۔ اس موقع پر خزانہ افسر شری پتی موجود تھے۔